دنیا - 29 جنوری 2026
نیٹ میٹرنگ سولر صارفین کے یونٹس غائب، لاکھوں کے اضافی بل موصول
کاروبار - 29 جنوری 2026
اسلام آباد: گزشتہ ماہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بلوں میں بڑی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جس سے متعدد سولر نیٹ میٹرنگ صارفین متاثر ہوئے۔
صارفین کی پیدا کردہ بجلی کے یونٹس جو نیشنل گرڈ کو فراہم کیے گئے، بلوں میں کریڈٹ نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے لاکھوں روپے کے اضافی بل آئے۔
وزارتِ توانائی نے خود اس مسئلے کا اعتراف کیا جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) نے بھی تسلیم کیا کہ بعض صارفین کے یونٹس گزشتہ ماہ کریڈٹ نہیں کیے گئے، خاص طور پر وہ جن کی پیداوار ان کی منظور شدہ صلاحیت سے زیادہ تھی۔
پاور ڈویژن کے مطابق کچھ صارفین نے اپنے منظور شدہ لائسنس (ڈی جی کپیسٹی) سے زائد نیٹ میٹرنگ سسٹمز نصب کیے ہوئے ہیں۔ بعض صارفین کو نیشنل گرڈ کو فروخت کی گئی بجلی کے یونٹس کا کریڈٹ نہیں ملا، جو درست طریقہ کار نہیں تھا۔
پاور ڈویژن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقعات زیادہ تر لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) میں رپورٹ ہوئے۔
یہ اس لیے بھی ہوا کہ ان کمپنیوں کا بلنگ سائیکل دیگر کمپنیوں سے پہلے ہے اور یہاں سولر صارفین کی تعداد زیادہ ہے۔
لیسکو میں 1 لاکھ 6 ہزار سے زائد، میپکو میں 83 ہزار سے زائد، اور آئیسکو میں 72 ہزار سے زائد سولر نیٹ میٹرنگ صارفین موجود ہیں، جبکہ ملک بھر میں تعداد ساڑھے 3 لاکھ سے زائد ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کی ہدایات پر مسئلے کا نوٹس لیا اور تمام ڈسکوز کو ہدایت کی کہ جن صارفین کے یونٹس کریڈٹ نہیں ہوئے، ان کا ایڈجسٹمنٹ اگلے بلنگ سائیکل میں کیا جائے۔
منظور شدہ صلاحیت کے مطابق فراہم کیے گئے یونٹس کو مکمل کریڈٹ دیا جائے گا، جبکہ صرف اضافی یونٹس کریڈٹ نہیں ہوں گے۔
دیکھیں

