شدید گرمی میں تھکن کی اصل وجہ ’ہیٹ اسٹروک‘ نہیں بلکہ ’ہیٹ فیور‘ بھی ہو سکتی ہے: ماہرین کی وضاحت

news-banner

تازہ ترین - 25 مارچ 2026

شدید گرمی کے موسم میں غیر معمولی اور مسلسل تھکن کو اکثر لوگ ہیٹ اسٹروک سمجھ لیتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی مواقع پر اس کی اصل وجہ ہیٹ فیور (گرمی کا بخار) بھی ہو سکتی ہے، جو جسم پر گرمی کے دباؤ اور پانی کی کمی کے باعث پیدا ہوتا ہے۔

 

ہیٹ فیور اس وقت ہوتا ہے جب جسم کا درجۂ حرارت گرمی اور پانی کی شدید کمی کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے اور جسم کا درجۂ حرارت قابو میں رکھنے والا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ 

 

انسانی جسم کا نارمل درجۂ حرارت تقریباً 38 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ 

 

دھوپ میں طویل وقت گزارنے اور پانی کم پینے سے جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن تیز یا بے ترتیب، کمزوری، چکر اور بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

 

ہیٹ فیور کی علامات:

 

  • جلد کا سرخ ہونا
  •  
  • ہلکا بخار
  •  
  • شدید پیاس اور پانی کی کمی
  •  
  • مسلسل تھکن
  •  

ہیٹ فیور اور ہیٹ اسٹروک میں فرق:

 

  • ہیٹ اسٹروک ایک طبی ایمرجنسی ہے جس میں جسمانی درجۂ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے، ذہنی الجھن، بے ہوشی اور دماغی نقصان کا خطرہ ہوتا ہے اور فوری طبی امداد ضروری ہوتی ہے۔
  •  
  • ہیٹ فیور نسبتاً کم شدت کی حالت ہے اور زیادہ تر پانی کی کمی اور مسلسل گرمی سے پیدا ہوتی ہے۔ 
  •  
  • بروقت پانی اور نمکیات لینے سے صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
  •  

گرمی میں تھکن کی وجہ:


ماہرین کے مطابق جسم کو درجۂ حرارت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ توانائی استعمال کرنی پڑتی ہے، اور پانی و الیکٹرولائٹس کی کمی اعصابی نظام پر دباؤ ڈالتی ہے، جس کی وجہ سے شدید تھکن اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔

 

احتیاطی تدابیر:

 

  • دوپہر کے وقت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔
  •  
  • پانی، جوس اور نمکیات والی مشروبات کا زیادہ استعمال کریں۔
  •  
  • سوتی اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں۔
  •  
  • سایہ دار جگہوں پر رہیں۔
  •  
  • موسمی پھل اور پانی والی غذاؤں کا زیادہ استعمال کریں۔
  •  
  • بخار یا چکر کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
  •  

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، اور ہیٹ فیور و ہیٹ اسٹروک دونوں کو معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ بروقت احتیاط ہی جان بچا سکتی ہے۔