8 سالہ قانونی جنگ ختم، کیس جیتنے کے بعد علی ظفر کا پہلا ردعمل

news-banner

انٹرٹینمنٹ - 03 اپریل 2026

پاکستان کے معروف گلوکار اور اداکار علی ظفر نے ساتھی گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں کامیابی کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔

 

علی ظفر نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ایک طویل اور صبر آزما قانونی مرحلے کے بعد انہیں بالآخر انصاف ملا ہے۔ 

 

یہ کیس تقریباً آٹھ سال تک جاری رہا، جس کا فیصلہ 31 مارچ کو آیا۔ 

 

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ 

 

عدالت نے کہا کہ میشا شفیع نہ تو متعدد پیشیوں پر عدالت میں حاضر ہوئیں اور نہ ہی اپنے الزامات کے حق میں مضبوط شواہد پیش کرسکیں، جبکہ علی ظفر کی جانب سے تمام گواہان عدالت میں پیش کیے گئے، جس کے بعد فیصلہ ان کے حق میں سنایا گیا۔

 

علی ظفر نے اپنی قانونی کامیابی کے بعد انسٹاگرام پوسٹ میں کہا کہ وہ اللہ کے شکر گزار ہیں اور ان تمام افراد کے مشکور ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا اور سچ کا دفاع کیا۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ یہ کامیابی جشن منانے کی نہیں بلکہ دل میں عاجزی اور شکرگزاری کے جذبات ہیں۔ 

 

علی ظفر کے مطابق اصل خوشی انصاف کے ملنے کی ہے، نہ کہ کسی کے خلاف جیت کا احساس۔

 

علی ظفر نے مزید کہا کہ وہ کسی کے خلاف منفی جذبات نہیں رکھتے اور یہ معاملہ اب اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ 

 

انہوں نے دعا کی کہ سب لوگ وقار اور سکون کے ساتھ آگے بڑھیں۔

 

یاد رہے کہ یہ مقدمہ 2018 میں اس وقت شروع ہوا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد علی ظفر نے ان کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ 

 

یہ مقدمہ پاکستان کے نمایاں ’می ٹو‘ کیسز میں شمار کیا جاتا ہے۔